پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی 21 اکتوبر کو وطن واپسی پر عدالتوں سے خصوصی ریلیف ملنے کی قیاس آرائیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سیکریٹری جنرل سید نیئر حسین بخاری نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ کو عدالتوں نے سزا سنائی ہے اور انہیں واپسی پر قانون کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ وہ 2019 میں اس وقت کی عمران خان کی زیر قیادت حکومت کی رضامندی اور عدالتی فیصلے کے ذریعے بیرون ملک گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ یہ امید کرنا حیران کن ہے کہ عدلیہ نواز شریف کے لیے خصوصی ریلیف کی مثال قائم کرے گی۔
پیپلز پارٹی کی جانب سے انتخابات کی تاریخ اور شیڈول کے اعلان کے مطالبے کا اعادہ کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ پارلیمانی نظام کے تسلسل کے لیے انتخابات ضروری ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی سب کے لیے یکساں مواقع کا مطالبہ کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ملک کو آئین کا تحفہ دیا ہے اور اس کے نفاذ اور پاکستان کے عوام کے جمہوری، انسانی اور معاشی حقوق کے تحفظ کے لئے قربانیاں دی ہیں۔
نگران حکومت کا مینڈیٹ شفاف انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی مدد کرنا ہے۔ نگران غیر جانبدار رہیں اور آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کی ذمہ داری پوری کرکے گھر چلے جائیں۔
زلفی بخاری نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کو انتخابات سے متعلق اپنے فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنانا چاہیے۔
چند روز قبل اسپیکر قومی اسمبلی اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے بھی نواز شریف کی وطن واپسی کے پیچھے کسی قسم کی مفاہمت کی بو محسوس کی تھی۔
