گزشتہ چند ماہ کے دوران مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے اور گزشتہ سال سے بجلی کے نرخوں میں 50 فیصد سے زائد کا اضافہ کیا گیا ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کی دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ بجلی کے بنیادی نرخوں میں 10 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق جنوری 2022 سے مارچ 2023 کے درمیان گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں 50 فیصد اضافہ ہوا۔
گھریلو صارفین کے لیے ٹیرف میں 8 روپے 50 پیسے کا اضافہ کیا گیا جس کے بعد ان صارفین کے لیے بجلی کی قیمت 18 روپے 04 پیسے سے بڑھ کر 26 روپے 54 پیسے ہوگئی۔
نیپرا کی دستاویزات کے مطابق کمرشل صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں 11 روپے فی یونٹ اضافہ کیا گیا، جبکہ صنعتی صارفین کے لیے قیمتوں میں 9 روپے 55 پیسے اور زرعی صارفین کے لیے ٹیرف میں 9 روپے 14 پیسے کا اضافہ ہوا۔
توانائی کی قیمت 655 ارب روپے سے بڑھ کر 1152 ارب روپے ہوگئی، جبکہ کیپسٹی چارجز 794 ارب روپے سے بڑھ کر 1251 ارب روپے اور بجلی کی پیداواری لاگت میں 22 فیصد اضافہ ہوا۔
بجلی کی مجموعی پیداواری لاگت 1515 ارب روپے سے بڑھ کر 2518 ارب روپے ہوگئی۔
